حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مشہد کے امام جمعہ اور خراسان رضوی میں نمائندۂ ولی فقیہ آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ نے آج حرم امام رضا علیہ السلام کے رواق امام خمینی میں نماز جمعہ کے خطبوں میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم اللہ 13 آبان 1358 ہجری شمسی کو امریکہ کی ڈیموکریٹ جماعت اور 13 آبان 1405 کو ریپبلکن جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتیں دراصل ایک ہی نظامِ استکبار کے دو چہرے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس اپنی دشمنی فریب اور چالاکی کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ریپبلکن کھلی سختی، تشدد اور بے رحمی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس لیے ان دونوں میں سے کسی ایک کو ایران کا دوست سمجھنا سیاسی غلطی ہوگی۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے 13 آبان 1358 ہجری شمسی کو امریکی سفارت خانے پر قبضے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ایران کو امریکہ کے مقابلے میں ایک اہم موقع ملا تھا، لیکن اس وقت بعض لوگوں نے یہ سوچ کر امریکی یرغمالیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا کہ ڈیموکریٹ صدر جمی کارٹر کی جماعت کامیاب ہو جائے گی اور ایران کے ساتھ دشمنی کم ہو جائے گی۔ اس غلط فہمی کے نتیجے میں ایران نے اپنا اہم موقع کھو دیا اور بعد میں ایسے معاہدے کیے گئے جن کے ذریعے ایرانی اثاثے منجمد ہوئے اور ملک پر پابندیاں عائد کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر معاہدہ بھی ڈیموکریٹ حکومت کے دور میں ہوا، جس میں ایران کی جوہری صلاحیتوں کو محدود کیا گیا۔ اراک کے بھاری پانی کے منصوبے کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور بعد میں امریکہ نے خود اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔ اس لیے آج بھی کسی امریکی جماعت کی کامیابی کو ایران کی کامیابی سمجھنا درست نہیں ہے۔
مشہد کے امام جمعہ نے حکام پر زور دیا کہ وہ استکبار کے خلاف جدوجہد میں رہبر معظم انقلاب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہیں اور ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرائیں۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ امریکہ کے مقابلے میں عزت، طاقت اور استقامت کے ساتھ کھڑے رہیں۔
آیت اللہ علم الہدیٰ نے کہا کہ ایران نے اس جدوجہد میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور سب سے بڑا نقصان رہبر انقلاب کی شہادت ہے، لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود ایران آج عالمی سطح پر کامیاب ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے اس کامیابی کے تین بنیادی عوامل بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلا عامل رہبر معظم انقلاب کی دانشمندانہ قیادت ہے، جنہوں نے مختلف مواقع پر بروقت رہنمائی کرکے حالات کا رخ درست کیا۔ دوسرا عامل مجاہدین کا اخلاص، بہادری اور قربانی کا جذبہ ہے، جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر ملک اور دین کے دفاع میں مصروف ہیں۔ تیسرا عامل عوام کی ثابت قدمی، میدان میں موجودگی اور نظام کی حمایت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تینوں عوامل نے اللہ کی مدد سے ایران کو کامیابی دلائی ہے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ایران کی کامیابیوں میں مزید اضافہ کرے، رہبر معظم انقلاب کا سایہ ملت ایران پر قائم رکھے اور حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔










آپ کا تبصرہ